ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈکیتی اور لوٹ میں ملوث پولیس والوں پر سخت کارروائی : سدرامیا

ڈکیتی اور لوٹ میں ملوث پولیس والوں پر سخت کارروائی : سدرامیا

Thu, 08 Dec 2016 12:16:13    S.O. News Service

بنگلورو۔7؍دسمبر(ایس او نیوز) انسداد جرائم کیلئے مقرر پولیس افسران اور جوانوں کی طرف سے ہی اگر سنگین جرائم اور چوری کی وارداتیں سرزد ہورہی ہیں تو اس کیلئے محکمۂ پولیس کو اپنا محاسبہ کرنے اور ان جرائم میں ملوث عملے کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی اور یہ ہدایت دی کہ جو بھی افسران یا عملہ ڈکیتی اور لوٹ کے الزامات میں ملوث پایا گیا ہے اس کے خلاف بلامروت سخت ترین کارروائی کی جائے۔ آج وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کے ہمراہ اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد سدرامیا نے کہاکہ پولیس کی ذمہ داری ، نظم وضبط اور قانون کی حفاظت کرنا ہے۔قانون کے محافظ ہی اگر لٹیرے بن گئے تو عوام کہاں جائیں گے۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کو سخت تاکید کی کہ ان واقعات پر فوراً روک لگائی جائے ،ورنہ نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کالے دھن کو بدلنے کے سلسلے میں اور رئیل ایسٹیٹ معاملات میں پولیس والوں کی مداخلت کی خبریں میڈیا میں چھائی رہتی ہیں۔ ان خبروں کی وجہ سے پولیس کی نیک نامی متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ سب سے پہلے ان معاملات میں ملوث پولیس افسران اور عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سدرامیا نے کہا کہ ڈکیتی ، لوٹ مار اوررہزنی میں ملوث پولیس افسران اور عملے کے ساتھ رحم کا برتاؤ ہرگز نہ کیا جائے۔ پولیس کانسٹبل ، ہیڈکانسٹبل ، سب انسپکٹر اسسٹنٹ سب انسپکٹر اورانسپکٹر کے عہدوں کیلئے 11ہزار پولیس والوں کو ترقی دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ان کی ترقی کے حکمنامے راست طور پر ان کے ہاتھوں میں پہنچائے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاست کی تاریخ میں پہلی بار ایک ساتھ پولیس فورس میں اتنی بڑی اجتماعی ترقی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت میں 27202 کانسٹبلوں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے، اس بھرتی کا عمل جاری ہے۔ آئندہ سال 333 انسپکٹرس اور 4560کانسٹبلوں کی بھرتی کی جائے گی، جبکہ 2018-19 میں 312 سب انسپکٹرس اور 4045کانسٹبلوں کی بھرتی کی جائے گی۔ میٹنگ میں طے کیا گیا کہ رام درگ ، اتھنی ، ہوسکوٹے اور سولہ پور میں نئے پولیس ڈویژن قائم کئے جائیں گے۔ پانچ نئے ویمنس پولیس تھانے قائم کئے جائیں گے، جس کے ساتھ ہی ریاست کے تمام 30اضلاع میں ویمنس پولیس تھانے قائم ہوجائیں گے۔ بلگاوی میں پولیس فورس کی کمی کو دور کرنے کیلئے 1599 افراد کی بھرتی کو منظوری دی گئی اور ساتھ ہی بلاری کا الگ پولیس ڈویژن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ گزشتہ سال 31؍ پولیس تھانوں کیلئے 1445 اسامیوں کو منظوری دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ امسال 30 نئے پولیس تھانوں کیلئے 1356 اسامیوں کو منظوری دینے کا فیصلہ کیاگیا، میٹنگ میں وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، ڈی جی پی اوم پرکاش ، ایم این ریڈی ، کشور چندرا ، وزیر داخلہ کے مشیر کیمپیا، وغیرہ موجود تھے۔


Share: